Author Topic: استاد محترم  (Read 181 times)

0 Members and 1 Guest are viewing this topic.

Offline CH Waseem

  • DiL PAKISTANI WAY
  • Administrator
  • *
  • Posts: 946
  • Reputation: 3551
  • Gender: Male
  • Champion_Pakistani
    • Jandanwala2
    • Email
Re: استاد محترم
« Reply #2 on: November 22, 2009, 11:38:48 PM »
Bohat khub admin bai jee

Offline Jandanwala

  • Mera Jandanwala
  • Administrator
  • *
  • Posts: 32
  • Reputation: 522
  • Administrator Of Jandanwala
    • Email
استاد محترم
« Reply #1 on: November 22, 2009, 02:59:04 AM »
[size=6]استاد محترم[/color][/b][/size]

[size=5]جب میں چھوٹا سا تھا یعنی کے ایک چھوٹا سا بچہ جو نیا نیا سکول جاتا ہے۔میں پہلی کلاس میں تھا تو مجھے یاد ہے کہ جب ماسٹر صاحب اندر آتے تھے کلاس روم میں تو جو ہمارا مڈیٹر تھا وہ کہتا تھا کلاس شٹینڈ تو ہم سب اُٹھھ جاتے تھے اور ماسٹر صاحب کے اگر کو دوسرے ماسٹر دوست اسی دوران دروازے پر اگر مل جاتے تھے تو شاید پوری کلاس اس کے جانے کے انتظار میں کھڑی رہتی تھی۔اور ہمارے استاد جی کو اتنی بھی توفیق نہ ہوتی کہ کہتے کہ آپ بیٹھ جاو بس وہ پھر دس یا بیس منٹ کے بعد پہلے خود بیٹھتے اور پھر کلاس بھی تھک ہار کر بیٹھ ہی جاتی۔اور پھر ایک لڑکے کو بیجھا جاتا کہ جاو تم ہیڈ صاحب کے دفتر سے حاضری کا رجسٹرلے آو لیکن ماسٹر جی بھی وہی سے آتے ہیں اپنی حاضری لگا کر ساتھ ہی کلاس حاضری کا رجسٹر بھی پڑا ہوتا تھا لیکن مجال ہے جو ہمت کر کے آٹھا لائیں اور پھر کوئی لڑکا جاتا اور جا کر لے آتا اسی دوران 30 منٹ گرز جاتے اور ایک پیریڈ ختم پھر سر جی نے کہنا کہ آو آج کمرے کی صفائی کرنے کی ڈیوٹی کس کی تھی تو مڈیٹر نے کہنا کہ اس اس کی تھی اور پھر اگر ہوئی ہوتو کہنا کہ ٹھیک نہیں ہوئی اور اگر نہ ہوئی ہو تو پھر جس کو ڈیوٹی تھی اس کو مرغا بنا کر 4 سے 5 تک لتر لگانے ہوتے تھے مڈیٹر نے پھر سارا دن ایسے ہی معملات میں گزر جانا ہوتا تھا اور پھر چھٹی۔پھر ایسے ہی روٹین میں ہم کلاس پنجم میں آگئے اور پھر وہی باتیں لیکن اب تھوڑے سے سمجھدار تھے ہمیں اب گُر آگیا تھا کہ ماسٹر جی کو کیسے بہلانا ہے تاکہ وہ ہمارا سبق نہ سنیں اور ساتھ ساتھ میں ماسٹر بھی ظالم ہوتے گئے اور سزا دینے کے نت نئے طریقے ایجاد کر لیے مجھے یاد ہے کہ سر کسی نہ کسی کو روزانہ ڈیوٹی لگاتے تھے کہ کل فلاں فلان نے توت کی سوٹی کڑ کے لے آنی ہے اگر وہ لے آتا تو سب کی سختی ہوتی تھی اور وہ اگر نہ لاتا تو سب کی تو بچت ہوجاتی تھی پر وہ اکیلا ہو مرغا بن کر چھتر کھاتا تھا۔ اور سب سے جو بُری بات جو تھی وہ یہ کہ کلاس میں اگر کوئی لڑکا شور کرتا تو اس کی سزا سب کو ملتی میرے ہاتھ کی الٹی ہتھیلی پر آج بھی اس مار کے نشان ہیں جو کسی کو سزا مجھے ملی تھی وہ بھی شہتوت کے گیلے اور لچکدار چھڑی سے میرے الٹے ہاتھ پر دس دس لگائی تھی اور ایسے ہی پوری کلاس پر ۔ اس دن کے بعد مجھے نفرت ہونے لگے تعلیم سے اور استادسے
کلاس میں آتے ہی کہانیاں اور پھر گلی محلے کے واقعات کسی کے چغلی یا پھر کسی کی غیبت سارا دن ہی چلتی رہتی اور پھر چھٹی کا وقت ہوجاتا اور آخری پیریڈ میں ڈیرھ سارا گھر کا کام جو جاکر رات گئے تک کرتے رہنا اور اگلی دن صبح اس کو چیک بھی نہیں کرنا اور اگلا کام دے دینا اور ایسے ہی چلتے رہنا۔پھر سکول میں نوکر ہونے کے باوجود صفائی ہمیں ہی روزانہ اپنے نئے کپڑے پہن کر کرنی ہوتی تھی اور پھر گھر سے امی کی ڈانٹ کے سکول پڑھنے جاتے ہو یا پھر دیہاڑی لگانے۔ کبھی کبھی تفریحی کے وقت کھیلنے کے لیے مل جاتا تھا لیکن زیادہ تر سارے استادوں کے چائے پینے کے برتن دھونے میں صرف ہوجاتا تھا اور بعض اوقات تو تین پیریڈ بھی اسی میں چلے جاتے کہ خیر ہے وہ برتن ہی تو دھو رہیں ہیں۔
اور جب اگلی کلاس میں گئے تو ایک نیا سیاپا اب ماسٹر جی کے گھر کے کام بھی کرنے ہوتے تھے کبھی ان کے بھینس کے لیے چارہ لانا اور کبھی ان کے کھیتوں کو پانی دینا اور کبھی گندم کی کٹائی۔ اور گرمی کی چھٹیوں کا سنیں تین ماہ کی چھٹیاں اور کام ایک سال جتنا دے دینا قسم سے مت وج جاتی تھی تین ماہ دن رات لگا کر کام کرنا اور لکھنا لیکن جب سکول جانا تو اس کو کوئی چیک ہی نہیں کرتا تھا اور ہاں اگر کسی ماسٹر کا دل کر گیا توایک غلطی پر مارنا شروع ہوگئے میرے ایک دوست کے بازوں توڑ دیا اور دوسرے بے چارے کا کان کی اکھاڑ دیا توبہ ہے۔ اور پھر ایک نیا مسئلہ تھا وہ تھا ٹیوشن کا اگر کسی ایک ماسٹر کے پاس پڑھو تو دوسرا مارتا تھا ضد کر کے اور دوسرے کے پاس پڑھو تو پہلا مارتا تھا کہ اس کے پاس پڑھتے ہو اس لیے نالائق ہو۔ خیر رو دھو کر ہم کلاس 10 میں آگئے اور ابھی تک ہمار کنسپٹ ہی کلیر نہیں تھا کسی ایک بھی چیز کے بارے میں کہ زواضعاف اقل کیا ہوتا ہے زاویہ کیا ہوتا ہے راست متناسب کیا ہوتا ہے ایکٹو اور پیسوو کیا ہوتا ہے فعل حال کیا ہے بس سب کچھ ہم نے رٹ لیا تھا میں نےتو سارا سلیئبس ہی رٹا لگا لیا تھا لکن کچھ سمجھ نہیں تھا کہ یہ چیزیں ہوتی ہیں کیا اور کہاں ان کا استعمال ہوتا ہے کیمیکل ری ایکشن کیا ہوتا ہے نیوٹن کا قانون کہاں پر اپلائی ہوتا ہے ڈارون کا نظریہ ارتقأ کیا ہے کچھ نہیں پتا تھا بس ایک چیز تھی ماسٹر کی مار سے بچنے کے لیے رٹا لگا لینا
نہ کسی نے کھیلنے دیا اور نہ ہی کسی اور سرگرمی میں حصہ لینے دیا بس سکول جانا اور گپ شپ ماسٹروں کے ساتھ لگانا اور پھر مار کھانا اور گھر آجانا ایک دفعہ تو ایسا ہوا ہمارا ایک ریاضی کا موٹا سا استاد تھا اور اردو کا جو تھا وہ پتلا سا تھا میں ان دونوں کی باتیں پہلے بھی بتائی ہیں ٹیوشن کے حوالے سے خیر وہ ریاضی کا ایک سوال سمجھا رہا تھا اور اس کے ایک گھنٹہ سے زیادہ ہوگیا اس کو خود سمجھ نہیں آرہی تھی اور ایک ایک لڑکے نے کہا کہ سر یہاں سے آپ نے غلطی کر دی ہے بس اتنا کہنا تھا کہ اس کو تھینکس بولنے کی بجائے اس کی لترول ہونے لگ پڑی اور ایسے ہی کبھی کبی ہوتا رہا تھا۔اور بعد میں اب پتا چلا تھا کے اس استاد کے بارے میں کسی نے ہیڈ ماسٹر نے ان کے خلاف درخواست دی اور لکھا کہ یہ دونوں استاد معاشرے مین گند ہیں ان کو ختم کر دیا جائے۔ باقی تفصیل تو مجھے پتا نہیں بہرحال 80 میں سے ہم 7 لڑکے میٹرک پاس کر گئے وہ بھی اس لیے کہ ہمارے گھر میں بہت پڑھے لکھے تھے۔ اور باقی بے چارے اور ہم ان اپنے استادوں کو گالیاں ہی دیتے آئے ہیں آج تک
ہم جب کے اردو میڈیم میں پڑھتے تھے اور کالج میں ایک دم انگلش آگئی وہ تو ہمیں آ ہی جانی تھی لیکن پروفیسر صاحب موٹے چشمے والے ہمیں بس پینڈوں کا طعنہ ہی دیتے رہتے ایک بات بتا دوں کہ 80 لڑکوں میں صرف میں ہی تھا جس نے اپنے بل بوتے آگے ایجوکیشن حاصل کہ ہے۔
میرا یہاں لکھنے کا بس یہی مقصد تھا کہ ہم میں سے کوئی بھی ڈاکڑ قدیر خان بن سکتا تھا اگر ہمیں اچھے استاد ملے ہوتے یا پھر اچھے انداز سے سمجھایا ہوتا اور پڑھایا ہوتا۔
ویسے ہم جب سارے دوست اکھٹے ہوتے ہین تو دل نہ کرتے ہوئے بھی ہم اپنے استادوں کو خوب گالیاں دیتے ہیں۔
[/size]
Mera Jandanwala

 

Powered by EzPortal